*"آبِ رودِ حیات، بتذکرۂ علمائے اہل حدیث میوات"*
*محترم علمائے کرام، دانشورانِ مسلک وملت، اربابِ فکر وقلم!* حفظکم اللہ ووفقکم
السلام علیکم ورحمۃ الله وبركاته، وبعد؛
ہم آپ کو یہ اطلاع دیتے ہوئے بڑی مسرت وشادمانی محسوس کر رہے ہیں، کہ اللہ کے فضل وتوفیق سے، *صوت الحجاز چیریٹیبل ٹرسٹ برائے تعلیم وترقی، فیروزپور جھرکہ* کی زیر نگرانی، میوات کے کچھ مرحوم علماء اہل حدیث کی یاد میں، ایک علمی وفکری سیمینار منعقد کرنے کی سعادت حاصل ہو رہی ہے، جس کا عنوان ہے: *"آبِ رودِ حیات، بتذکرۂ علمائے اہل حدیث میوات"*
یہ سیمینار، کچھ ان عظیم المرتبت اہلِ علم کی یاد میں منعقد کیا جا رہا ہے جنہوں نے میوات کی سرزمین کی، اپنے علم، عمل، تقویٰ اور اخلاص وللہیت کے ذریعے آبیاری کی، جن کی زندگی قرآن وسنت کی روشنی میں ایک مشعل راہ رہیں، اور جو فکری، تعلیمی، تصنیفی اور دعوتی ہمہ جہت خدمات سے ملت کے سر کا تاج قرار پائے۔
یہ سیمینار ان کی ان بیش بہا خدمات ومساعی کے اعتراف وتشکر کی ایک ابتدائی کوشش ہے جو اُن علمائے کرام نے مختلف سطحوں پر انجام دیں۔ ان کے چھوڑے ہوئے نقوش اور انکی علمی دولت وراثت کو نئی نسلوں تک منتقل کرنا، اور ان کی زندگی سے سبق لے کر اپنے حال ومستقبل کو روشن کرنا ہم سب کا دینی، قومی اور اخلاقی فریضہ ہے۔
اس عظیم مقصد کے لیے ہم آپ جیسے اہلِ قلم اور محبان علم، وخوگر تحقیق حضرات کو دل کی گہرائیوں سے اس سیمینار میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے، امید کرتے ہیں کہ آپ اپنی شرکت سے اس تقریب کو زینت بخشیں گے، اور اپنے مقالہ جات سے مرحومین کی حیات وخدمات کو اجاگر کر کے انکو خراج عقیدت پیش کریں گے۔
آپ کی شرکت اس سیمینار کے لیے باعثِ افتخار وشرف ہوگی اور مرحومین کے علمی چراغوں کو دوام بخشنے کا ایک ذریعہ بنے گی.
اس لیے گزارش ہیکہ آپ اپنی شرکت کے ذریعے اس دینی، علمی، دعوتی، تربیتی، اخلاقی اور تاریخی تحریک کا حصہ بن کر کارِ خیر میں اپنی حصے داری کو یقینی بنائیں۔
*مرحوم علماء پر، مقالہ نویسی کے لیے کچھ اہم اشاریے اور گزارشات:*
1 - ان مرحومین کی شخصیت کا تعارف اور خاندانی پس منظر پیش کرنا۔
2 - تعلیم وتدریس سے انکی وابستگی کو واضح کرنا۔
3- ان کے اساتذہ وشاگردان کا تذکرہ۔
4- انکی مساجد ومدارس ومکاتب کے تعلق سے خدمات کا ذکر۔
5- انکی کتابیں، تصانیف اور علمی آثار کو جمع کرنا۔
6- دعوت وتبلیغ میں انکا کردار اور کاوشیں اور انکے ثمرات ونتائج کا جائزہ لینا۔
7- اصلاح معاشرہ میں انکے کردار کو اجاگر کرنا۔
8- مختلف یا اہم پروگراموں اور کانفرنسوں میں انکی شرکت کی روئیداد کو بیان کرنا۔
9- انکے اہم اسفار اور مختلف سوانح اور واقعات کو قلمبند کرنا۔
10- برائے مہربانی خیال رکھیں کہ، کسی کتاب سے استفادہ کرتے وقت حوالہ جات مستند اور صحیح ہوں۔
11- زبان وبیان میں، ادب واحترام اور شائستگی نیز تحقیق کا رنگ غالب رہے۔
12- منتخب مقالہ نگاروں کو اسٹیج پر مقالہ پیش کرنے کی دعوت دی جائے گی۔ اور تمام مقالوں کو کتابی شکل میں نشر کیا جائیگا۔ چاہے کوئی مقالہ چار پانچ صفحات پر ہی مشتمل کیوں نہ ہو۔
*نیز جن مقالوں میں بہترین اور قدرے جدید معلومات ہونگی انکی خصوصی پذیرائی ہوگی، اور مقالہ نویس حضرات کو کچھ یادگار تحفے یا انعام سے بھی نوازا جائیگا۔*
13- مقالہ جمع کرانے کی آخری تاریخ 21 اگست ہے.
14- مقالات بذریعہ ایمیل یا واٹس اپ إرسال کئے جا سکتے ہیں.
15- *ہریانہ کے مختلف علاقوں اور گاؤں دیہاتوں میں مسلک اہل حدیث کیسے آیا، اور کون اسکے سرخیل تھے۔۔۔، اس موضوع پر بھی خصوصی طور پر قلم اٹھانے کی ضرورت ہے۔*
E mail: shicted@gmail.com
WhatsApp No. 9813276838
والسلام مع الاکرام
آپ کے مخلص اور چشم براہ:
1- ڈاکٹر سعید احمد حیات مُشَرَّفی مدنی (صدر صوت الحجاز چیریٹیبل ٹرسٹ برائے تعلیم وترقی، فیروزپور)
2- مولانا محمد مبارک سنابلی مدنی (نائب صدر صوت الحجاز چیریٹیبل ٹرسٹ برائے تعلیم وترقی، فیروزپور)
3- مولانا حکیم الدین صدیق سنابلی (جنرل سکریٹری صوت الحجاز چیریٹیبل ٹرسٹ برائے تعلیم وترقی، فیروزپور)
4- سیمینار کی مختلف کمیٹیاں، اور تمام اراکین واسٹاف مرکز صوت الحجاز، اور الحجاز نیشنل اکیڈمی آف ہیومن اسٹڈیز، فیروزپور جھرکہ، میوات۔

ممتاز ، جزاکم اللہ خیرا ۔ شاندار پیش رفت
ردحذف